ابنا: اطلاعات کے مطابق سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ کراچی میں سانحہ عاشورا کی ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ ہے اور مزید یہ کہ سانحہ عاشورا کے بعد ہونے والے جلاؤ گھراؤ کے واقعات میں بدنام زمانہ اور سو سے زائد معصوم بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث اجمل پہاڑی جو کہ متحدہ قومی موومنٹ کا ٹارگٹ کلر ہے ملوث ہے۔ان کاکہنا تھاکہ اجمل صدیقی عرف اجمل پہاڑی جو کہ ایم کیو ایم کا دہشت گرد ہے اس کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران اس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے ایم کیو ایم کے اعلی ذمہ داران نے بتایا تھا کہ دس محرم الحرام کو جلوس عزاء میں کچھ ہونے والے ہے لہذٰا تمھاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم نے دہشتگردانہ کاروائی کے بعد جلاؤ گھراؤ کرنا ہے ۔ذوالفقار علی مرزا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے بتایا کہ سانحہ عاشورا کی تفتیش اس وقت ایک اہم رخ اختیار کر گئی تھی جس وقت دہشت گرد اجمل صدیقی عرف اجمل پہاڑی جو کہ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھتا ہے کو گرفتار کر لیا گیا۔سابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا اتوار کے روز کراچی پریس کلب میں سفید رنگکے شلوار قمیض میں ملبوس اور سر پر سندھی ٹوپی پہنے تقریبا مقامی وقت کے مطابق چار بج کر پچیس منٹ پر ایک بڑے ہجوم اور سیکورٹی گارڈز کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچے اور اپنے ہمراہ قرآن کریم بھی لے کر آئے تھے تا کہ اپنی باتوں کا یقین دلوا سکیں۔دوسری جانب جوائنٹ تفتیشی ٹیم نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ سن 2009میں روز عاشورا ہونے والے بم دھماکے کے بعد زبر دست جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار میں اجمل صدیقی عرف اجمل پہاڑی نامی دہشت گرد ملوث ہے جس کے ثبوت مل چکے ہیں۔واضح رہے کہ سال 2009ء میں ستائیس دسمبر کو دس محرم الحرام روز عاشورا کو دنیا بھر میں شہادت امام حسین علیہ السلام کی یاد منائی جا رہی تھی اور اسی مناسبت سے کراچی میں بھی لاکھوں شیعیان پاکستان عاشورا کے جلوس میں شریک تھے کہ اچانک ڈینسو ہال کے نزدیک ایک زور دار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں پینتالیس عزادران امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے، تاہم دھماکے سے توجہ ہٹانے اور عزادراوں کی مظلومیت کو دبانے کے لئے شر پسند عناصر نے دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور مارکیٹوں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا تا کہ عزاداروں کی مظلومیت اور دھماکے کے اصل محرکات کو چھپایا جا سکے۔اجمل صدیقی عرف اجمل پہاڑی جس کا تعلق متحدہ قومی مومنٹ سے ہے سو سے زائد معصوم اور بے گناہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، کچھ عرصہ قبل کراچی سی آئی ڈی پولیس نے ایک کاروائی میں اسے گرفتار کر لیا تھا ،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش کے دورا ن اس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 'ہمیں معلوم تھا کہ دس محرم الحرام کو عاشورا کے جلوس میں ایک بم دھماکہ ہونے والا ہے جو کہ ہمیں ہمارے اعلی ذمہ داروں نے بتایا تھا، لہذٰا اس کے لئے ہم نے سو افراد پر مشتمل ایک ٹیم تیار کی جن کو کالے لباس پہنائے گئے تھے تا کہ عزادراوں میں گھل مل جائیں، تاہم ہماری ذمہ داری یہ تھی کہ عاشورا کے روز بم دھماکے کے بعد علاقے میں جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیں، تاہم ہم نے اپنی ہدایات کے مطابق ہی کام کیا۔ پہاڑی نے بتایا کہ ہم کاروائی سے قبل ایک ٹارگٹ کلر جو کہ ہمارا ساتھی ہے جس کا نام کاشف ہے کے گھر میں جمع ہوئے اور وہاں تمام ضروریات کی چیزوں کا جائزہ لیا اور پھر کاروائی کے لئے اپنے اعلی ٰ ذمہ داروں سے ملاقات کی'۔اجمل پہاڑی سے جن تحقیقاتی ٹیموں نے پوچھا کہ تم نے یہ سب کام کیوں کیا ؟ تو جواب میں پہاڑی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے، ہم نے وہی کیا جو ہمارے اعلیٰ عہدیداروں نے ہم سے کہا۔اجمل پہاڑی نے بتایا کہ ہمارے سو افراد کی مضبوط ٹیم تھی جس کے پاس مخصوص کیمیکل کی بوتلیں موجود تھیں اور ہم سب کے سب بم دھماکے کی جگہ سے دور رہے کیونکہ ہم سب دھماکے کی جگہ جانتے تھے، تاہم دھماکے کے فوراً بعد ہی ہم نے بولٹن مارکیٹ اور دیگر مقامات کو جلا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
ایم کیو ایم کے بدنام زمانہ دہشت گرد اور سینکڑوں انسانوں کے قتل میں ملوث اجمل پہاڑی کے اعترافات بھی دیکھیں:
ذوالفقار مرزا نے انکشاف کیا کہ الطاف حسین سے برطانوی وزیر اعظم سے آئی ایس آئی کو تحلیل کرانے کی درخواست دی تھی
اسلام ٹائمز کو الطاف حسین کی جانب سے ٹونی بلیئر کو لکھے گئے خط کی کاپی موصول ہوئی ہے جو متن کے آخر میں پیش کی جارہی ہے اسلام ٹائمز: اسلام ٹائمز کو موصول ہونے خط کی کاپی میں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے اپیل کی کہ وہ آئی ایس آئی پر پابندی عائد کرائیں ورنہ کئی اسامہ پیدا ہوجائیں گے اور اس عمل میں ایم کیو ایم برطانیہ کے ساتھ ہوگی۔سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے شہر کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد لیاری میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی ہدایت پر ہونے والے آپریشن اور دیگر معاملات پر پیپلز پارٹی کے چند رہنماؤں سے اختلافات کے بعد کراچی پریس کلب میں پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین پریس کانفرنس کے دوران اپنی وزارت اور پارٹی عہدہ سے استعفیٰ دیتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پر الزام عائد کیا کہ وہ آئی ایس آئی کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے الطاف حسین کی جانب سے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو لکھے گئے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ آئی ایس آئی پر پابندی عائد کی جائے ورنہ آئی ایس آئی مزید اسامہ بن لادن اور طالبان پیدا کردے گی، الطاف حسین کی جانب ٹونی بلیئر کو لکھے گئے خط کی کاپی درج ذیل ہے۔

اس خط میں الطاف حسین نے لکھا ہے:ایم کیو ایم دہشت گردی کی تمام اقسام، مذہبی تعصبات اور تشدد کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہے اور حقیقی جمہوریت کی حمایت کرسکتی ہے۔ہم درج ذیل سہولیات فراہم کرسکتے ہیں:1۔ کراچی میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی برادری کی حمایت میں پانـچ دن کے نوٹس پر مظاہرے کرنا، لاکھوں افراد کے دستخطوں سے طومار جاری کرنا، حکومت پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کی اجازت کا مسئلہ قابل حل ہے۔ کراچی میں اس سلسلے میں پہلا جلوس 26 ستمبر 2001 کو ہوگا۔2۔ سندھ اور پنجاب میں اسی سلسلے میں بڑی تعداد میں افرادی قوت فراہم کرنا جو طالبان کی قیادت میں چلنے والی تنظیموں نیز دینی مدارس کی سرگرمیوں کی نگرانی کے گی۔3۔ مغربی جاسوسی کی ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی سطح کو وسعت دینے کے لئے افغانستان میں نفوذ کرنا۔ہم اس تعاون کے بدلے ہم ذیل کے ناچیز سے اہداف حاصل کرنا چاہیں گے جو ہمارے لئے بھی اور مجموعی طور پاکستان کے لئے ناگزیر تصور کئے جائیں گے:الف: حکومت سندھ نیز وفاق میں حکومت میں مناسب حصہ دیا جائے۔ب: تعلیم، روزگار، فوج اور انتظامیہ سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں مناسب اور منصفانہ حصہ دیا جائے۔ج: ہمیں مہاجرین اور سندھیوں پر مشتمل مقامی پولیس کی ضرورت ہوگی۔د: صوبوں کو مکمل خودمختاری دینے کی ضمانت دی جائے۔ح: اور وفاق کے پاس صرف تین شعبے "دفاع، امور خارجہ اور کرنسی" رہنے دیئے جائیں گے اور ان تین شعبوں میں بھی صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے گی۔ و: آئی ایس آئی کی تحلیل ہونی چاہئے کیونکہ اگر آئی ایس آئی باقی رہے گی تو یہ مستقبل میں کئی اسامہ بن لادن اور طالبان کو جنم دے گی۔مجھے امید ہے کہ آپ مہربانی کریں گے اور پاکستان سے برطانیہ اور بین الاقوامی برادری کی جیواسٹراٹیجک اور تجارتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مفاد کی خاطر میری تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔آپ کے جواب کا منتظر الطاف حسینبانی و قائد متحدہ قومی موومنٹ